باب

1 ۔ نحمیاہ کا یروشلیم جانا اَور ارتخششتا بادشاہ کے بیسویں برس نیساؔن کے مہینہ میں ایسا ہُؤا کہ مَے اُس کے سامنے تھی۔ تو مَیں نے مَے اُٹھا کر بادشاہ کو دی۔ اَور اُس سے پہلے مَیں کبھی اُس کے حضُور میں اُداس نہ ہُؤا تھا۔ 2 ۔تو بادشاہ نے مُجھ سے دریافت کیا کہ تیرا چہرہ کیوں اُداس ہَے حالانکہ تُو بیماربھی نہیں ہے؟ یہ تیرے دِل کے غم کے سِوا اَور کُچھ نہیں۔ تب میں بہت ڈر گیا۔ 3 ۔اَور مَیں نے بادشاہ سے عرض کی۔ بادشاہ اَبد تک سلامت رہے۔ میرا چہرہ کِس طرح اُداس نہ ہو؟ جب کہ وہ شہر وِیران ہو گیا ہَے جو میرے باپ دادا کی قبروں کی جگہ ہَے۔ اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلائے گئے ہَیں۔ 4 ۔تو بادشاہ نےمُجھ سے دریافت کیا کہ پس تُو کیا درخواست کرتا ہَے؟ تب مَیں نے آسمان کے خُدا سے دُعا مانگی۔ 5 ۔پِھر مَیں نے بادشاہ سے کہا۔ اگر بادشاہ کے نزدِیک مُناسِب ہو۔ اَور تیرے بندے نے تیری نظر میں مقبوُلیّت پائی ہَے۔ تو مجُھے یہوداہ میں میرے باپ دادا کی قبروں کے شہر میں بھیج دے۔ تاکہ مَیں اُس کی تعمیر کُروں۔ 6 ۔تب بادشاہ نے مُجھ سے کہا(اَورمَلکہ نے بھی جو اُس کے پاس بیٹھی تھی) کہ تیرا سفر کب تک ہو گا۔ اَور تُو کب لَوٹے گا؟ اَور بادشاہ کے نزدِیک اچھّا معلُوم ہُؤا۔ کہ مُجھے بھیج دے۔ جب میں نے ایک وقت مقرر کر کے اُسے بتایا۔ 7 ۔اَور مَیں نے بادشاہ سے کہا۔ کہ اگر بادشاہ کے نزدِیک اچھّا معلُوم ہو۔ تو مُجھے دریا کے پار کے حاکِموں کے نام فرمان عطا کرے۔ کہ وہ مُجھے جانے دیں۔ جب تک کہ مَیں یہوداہ میں نہ پُہنچوں۔ 8 ۔اَور ایک فرمان شاہی باغ کے داروغہ آسف کے نام کہ وہ مجھے لکڑی دے۔ تاکہ مَیں اُن سے ہیکل کے قِلعہ کے پھاٹکوں اَور شہر کی دِیواروں کے لئے اَور اُ س گھر کی چھت کے لئے جس میں رہُوں گا۔ تو بادشاہ نے مُجھے فرمان عطا کِئے میرے خُدا کے نیک ہاتھ کے مُطابِق جو مُجھ پر تھا۔ 9 ۔تب مَیں دریا کے پار کے حاکِموں کے پاس آیا۔ اَور بادشاہ کے فرمان اُنہیں دیئے۔ اَور بادشاہ نے میرے ساتھ لشکر کے سرداروں اَور سَواروں کو بھیجا تھا۔ 10 ۔جب سَنبلَؔط حورونی اَور طوبیاہ عّمونی غُلام نے سُنا ۔ تو وہ نہایت غمگین ہُوئے کہ ایک آدمی آیا ہَے جو بنی اِسؔرائیل کی بہبوُدی کا خواہشمند ہَے۔ 11 ۔اَور مَیں یرُوشلؔیم میں آیا۔ اَور وہاں تین دِن ٹھہرا۔ 12 ۔پِھر مَیں رات کو اُٹھا۔ اَور میرے ساتھ چند آدمی تھے۔ اَور مَیں نے کِسی پر ظاہر نہ کِیا۔ کہ میرے دِل میں میرے خُدا نے کیا ڈالا ہَے جو مَیں یرُوشلِیؔم میں کرُوں۔ اَور میرے ساتھ کوئی چوپایہ نہ تھا مگر وہی چوپایہ جس پر مَیں سَوار ہُؤا۔ 13 ۔اَور مَیں رات کے وقت وادی کے پھاٹک سے جو اَژدھاکنوئیں کے سامنے ہَے کُوڑے کے پھاٹک کی طرف کو نِکلا۔ اَور مَیں نے یرُوشلِیؔم کی گِری ہُوئی دِیواروں اَور اُس کے آگ سے جَلے ہُوئے پھاٹکوں کو دیکھا۔ 14 ۔پِھر مَیں چشمہ کے پھاٹک اَور بادشاہ کے تالاب کو گیا۔ تُو اُس چوپایہ کے لئے جس پر مَیں سَوار تھا گُزرنے کی جگہ نہ تھی۔ 15 ۔پِھر مَیں رات ہی کو وادی کی طرف گیا اَور دیوار کو دیکھ کر لوَٹا۔ اَور وادی کے پھاٹک سے داخِل ہو کر واپس آیا۔ 16 ۔اَور حاکِموں نے نہ جانا کہ مَیں کہاں کہاں گیا یا مَیں نے کیا کیا کِیا۔ اَور مَیں نے ابھی تک یہُودؔیوں اَور کاہِنوں اَور امیروں اَور حاکِموں اَور باقی کام کرنے والوں کو کُچھ نہیں بتایا تھا۔ 17 ۔تب مَیں نے اُن سے کہا تُم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی مُصِیبت میں ہَیں۔ یُروشلیؔم کیسے اُجڑا ہُؤا ہَے۔ اَور اُس کے پھاٹک آگ سے جَلائے گئے ہَیں۔ پس تُم آؤ۔ کہ ہم یرُوشلِیؔم کی دِیوار تعمیر کریں۔ تاکہ آگے کو ہم ذلت کا نشان نہ رہیں۔ 18 ۔اَور مَیں نے اُنہیں بتایا۔ کہ میرے خُدا کا ہاتھ نیکی کے لئے مُجھ پر رہا۔ اَور یہ بھی کہ بادشاہ نے کیا کیا باتیں مُجھ سے کہی تھیں۔ تو اُنہوں نے کہا۔ آؤ ہم اُٹھیں اَور بنائیں۔ اَور اُن کے ہاتھ نیکی کے لئے مضبُوط ہُوئے۔ 19 ۔جب سَنبلّط حورونی اَور طوبیاہ عموّنی غُلام اَور جشم عربی نے سُنا۔ تو ہم پر ٹھٹّھا کِیا۔ اور ہماری حقارت کی۔ اَور کہا۔ یہ کیا ہَے جو تُم کرتے ہو۔ کیا تم بادشاہ کے خلاف بغاوت کرو گے؟ 20 ۔تب مَیں نے اُنہیں جَواب دِیا اَور اُن سے کہا۔ کہ ہماری کامیابی آسمان کے خُدا ہی سے ہَے۔ اَور وہ جو اُس کے بندے ہَیں اُٹھیں گے اَور تعمیر کریں گے۔ اَور تُمہارے لئے یرُوشلؔیم میں نہ حِصّہ اَور نہ حَق اَور نہ یاد گار ہے۔