باب

1 ۔ آستر کا ملکہ بنایا جانا اِن باتوں کے بعد جب اخسویرس بادشاہ کا غُصّہ زائل ہُؤا۔ تو اُس نے وَشتؔی کو اَور جو کُچھ اُس نے کِیا تھا اَور جو حُکم اُس کے بارے میں دِیا تھا، یاد کِیا۔ 2 ۔تب بادشاہ کے مُلازِموں نے جو اُس کی خدمت کرتے تھےکہا۔ کہ بادشاہ کے لئے خُوبصُورت کُنواری لڑکیاں ڈُھونڈی جائیں۔ 3 ۔سو بادشاہ اپنی مَملُکَت کے تمام صُوبوں میں منصب دار مُقرّر کرے جو کہ خُوبصُورت کُنواری لڑکیوں کوقصِر سوسؔن کی حَرم سَرا میں جمع کریں۔ جہاں وہ خواجہ سرا ہیؔجاناظر مُستُورات کی حِفاظت میں رہیں اَور عورتوں کے زیورات اَور باقی ضرُوریات اَستعمال اُنہیں دیئے جائیں۔ 4 ۔پِھر جو لڑکی بادشاہ کی نظر میں اچھّی لگے وہ وَشتؔی کی جگہ مَلکہ ہو۔ یہ بات بادشاہ کو پسند آئی اَور اَس نے ایسا ہی کِیا۔ 5 ۔اَور قصِر سوسؔن میں بِنیمیِؔن کے قبیلہ میں سے ایک یہُودی مرد کی نام سمعی بن قیس تھا۔ 6 ۔جو اُن اسیروں کے ساتھ یرُوشلیِؔم سے پکڑا گیا تھا۔ جِنہیں شاہِ بابؔل نُبوکدنِصر نے یکونیاہ شاہِ یہُودؔاہ کے ساتھ جَلاوطن کِیا تھا۔ 7 ۔اَور اُس نے ہدساہ عُرف آستر کو پالا جو اُس کی چچا کی بیٹی تھی۔ کیونکہ وہ والدین سے محُروم تھی۔ اَور وہ لڑکی خُوش شکل اَور حسیِن صُورت تھی۔ اُس کے ماں باپ کی وفات کے بعد مردکی نے اُسے اپنی بیٹی بنا کر پالا تھا۔ 8 ۔اَور ایسا ہُؤا ۔ کہ جب بادشاہ کا حُکم اَور فرمان سُنایا گیا۔ اَور بُہت سی لڑکیاں قصرِ سوسؔن میں ہیؔجاخواجہ سَرا کی زیر نِگرانی جمع کی گئیں۔ تو آستر بھی شاہی محلّ میں داخِل کی گئی۔ اَور ہیؔجاناظرِ مَستُورات کے سپُرد ہُوئی۔ 9 ۔اَور یہ لڑکی اُس کی نِگاہ میں اچھّی لگی اَور اُس کی منظُورِ نظر ہُوئی۔ سو اُس نے فی الفور اُسے عورتوں کے زیورات اَور اُس کے مُقررہ حِصّے دیئے مع سات سہیلیوں کے جو اُس کے لئے بادشاہ کے محلّ سے چُنی گئیں۔ اَور اُسے اَور اُس کی سہیلیوں کوحَرم سَرا کے سب سے اچھّے محلّ میں لے گیا۔ 10 ۔ اَور آسترنے اپنی قوم اَور اپنے خاندان کی بابت کُچھ نہ بتایا کیونکہ مردکی نے اُسے حُکم دِیا تھا کہ نہ بتانا۔ 11 ۔اَور مرد کی ہر روز حَرم سَرا کے صحن کے آگے چلتا پِھرتا تھا تاکہ آستر کی خیریّت کی خبر رکھّے اَور معلُوم کر ے کہ اُس کا کیا حال ہوگا۔ 12 ۔اَور جب ہر ایک لڑکی کی باری آتی کہ وہ بادشاہ اخسویرس کے پاس جائے۔ تو عورتوں کے دستُور کے مُطابِق بارہ مہینے گُزرنے کے بعد جاتی تھی۔ کیونکہ اُس کی طہارت کے ایّام چھ مہینے مُر کا تیل مَلنے اَور چھ مہینے خُوشبُوئیوں اَور عورتوں کی صفائی کے مصالحوں کے لگانے میں تمام ہوتے تھے۔ 13 ۔تب اِس طرح سے وہ لڑکی بادشاہ کے پاس جاتی تھی۔ کہ جوکُچھ وہ مانگتی اُسے دِیا جاتا۔ پِھر وہ حَرم سَرا سے بادشاہ کے کمرے میں داخِل ہوتی۔ 14 ۔یعنی رات کے وقت وہ جاتی اَور صُبح کو دُوسری حَرم سَرا میں چلی جاتی جواشعشجز بادشاہ کے خواجہ سَرا ناظِر مدخُولات کی زیرِ نگرانی تھی۔ پِھر وہ بادشاہ کے پاس کبھی نہ جاتی۔ جب تک کہ بادشاہ اپنی مرضی سے اُسے نام لے کر نہ بلُوائے ۔ 15 ۔جب مردکی کے چچا ابیخیل بیٹی آستر کی باری آئی جِسے اُس نے بیٹی بنایا ہُؤا تھا کہ بادشا ہ کے پاس جائے۔ تو اُس نے کوئی زیورات نہ مانگے مگر جو کُچھ ہیؔجابادشاہ کے خواجہ سَرا ناظِر مَستُورات نے ٹھہرایا تھا۔ اَور وہ ہر ایک کی آنکھوں میں جو اُسے دیکھتا خُوبصُورت تھی۔ 16 ۔آستر شاہی محلّ میں اخسویرس بادشاہ کے پاس اُس کی سَلطنَت کے ساتویں سال کے دسویں مہینہ یعنی طیبؔت مہینہ میں پُہنچائی گئی۔ 17 ۔اَور بادشاہ نے آستر کو سب عورتوں سے زیادہ پیار کِیا۔ اَور وہ اُس کی نِگاہ میں سب لڑکیوں میں سب سے زیادہ مقبُول اَور پسندیدہ ہُوئی۔ پس بادشاہ نے شاہی تاج اُس کے سر پر رکھّا۔ اَور وَشتؔی کی جگہ اُسے مَلکہ بنایا۔ 18 ۔اَور بادشاہ نے اپنے سب اُمراء اَور وُزراء کے لئے ایک بڑی ضِیافت یعنی آستر کی شادی کی ضِیافت کی۔ اَور اُس نے تمام صُوبوں کو آرام دِیا۔ اَور شاہی کرم کے مُطابِق اِنعام بانٹے۔ 19 ۔اَور جس وقت لڑکیاں دوسری بار جمع کی گئیں تو مرد کی بادشاہ کے دروازہ پر حاضر رہتا تھا۔ 20 ۔ اَور آستر نے اپنے خاندان اَور اپنی قوم کا پتہ نہیں دیا تھا بمُطابِق اُس حُکم کے جو مرد کی نے اُسے دیا تھا کیونکہ آستر مردکی کے حُکم سے ویسا ہی کام کرتی تھی۔ جیسا کہ اپنی پرورش پاتے وقت کِیا کرتی تھی۔ اَور آستر نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کِیا۔ 21 ۔اَور اُن ہی دِنوں میں جب مردکی بادشاہ کے دروازہ پر بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ کے دو خواجہ سَراؤں بگتان اور ترش کا جو دہلیزوں کے دربان تھے غُصّہ بھڑکا۔ اَور اُنہوں نے قصد کِیا۔ کہ اخسویرس بادشاہ پر ہاتھ ڈالیں۔ 22 ۔اَور مردکی کو یہ بات معلُوم ہو گئی۔ تو اُس نے آستر مَلکہ کو خبر دی اَور آستر نے مردکی کے نام سے بادشاہ کو خبر دی۔ 23 ۔جب اِس بات کی تفتیش ہُوئی اَور ویسی ہی پائی گئی۔ تو وہ دونوں پھانسی پرلٹکائے گئے۔ اَور یہ بات اُن ایّام کے شاہی توارِیخ نامے میں درج کی گئی۔