باب

1 ۔ داؤد کی وصِیّت اَور جب داؤد کی وفات کا دِن نزدِیک پُہنچا۔ تو اُس نے اپنے بیٹے سُلیمان کو وصِیّت کی اَور کہا۔ 2 ۔ مَیں تو کَل زمین کی راہ میں چلا جانے والا ہُوں۔ پس تُو مضبُوط ہَو اَور مَرد بن۔ 3 ۔ اَور خُداوند اپنے خُدا کی ہدایات کو مان اَور اُس کی راہ پر چل۔ اَور اُس کے قوانین اَور اِحکام اَورآئین اَور شہادتوں کی حِفاظَت کر۔ جس طرح سے کہ مُوسیٰ کی شریعت میں لِکھے ہُوئے ہَیں۔ تاکہ سب کاموں میں جو تُو کرے اَور جس طرف پِھرے کامیاب ہَو۔ 4 ۔ تاکہ خُداوند اپنے کلام کو قائم کرے جو اُس نے مُجھ سے فرمایا یہ کہہ کر کہ اَگر تیرے بیٹے اپنی راہ کی خبرداری کریں۔ اَوراپنے سارے دِل اَور ساری جان سے میرے حضُور راستی سے چلیں۔ تو تیرے ہاں اِسرائیل کے تخت کے لِئے مَرد کی کمی نہ ہوگی۔ 5 ۔ پِھر تُو جانتا ہَے۔ کہ یوآب بِن ضَرُویاہ نے مُجھ سے کیا کِیا۔ میرے اِسرائیلی لشکروں کے رئیس اَبنیر بِن نیر سے اَور عماسابِن یتر سے کیا کِیا۔جب اُس نے اُن دونوں کو قتل کِیا۔ اَور صُلح کے وقت خُونِ جنگ بہایا۔ اَور میرے پٹکے پر جو میری کَمر پر ہَے اَور میری جُوتیوں پر جو میرے پاؤں میں ہَیں بے گُناہوں کا خُون لگایا۔ 6 ۔ پس تو اُس سے اپنی دانِش کے مُطابِق سلُوک کر۔ اَور اُس کے سفید سِر کو قبرمیں سلامتی سے نہ اُترنے دے۔ 7 ۔ لیکن برزِلی جلعادی کے بیٹوں پر مہربانی کر۔ اَور وہ تیرے دسترخوان پر کھانا کھانے والوں میں سے ہوں۔ کیونکہ جس وقت مَیں تیرے بھائی ابی سلوم کے سامنے سے بھاگا تھا۔ وہ میرے پاس آئے تھے۔ 8 ۔ اَور بنی بنیمین سے بحوریمی کا سمعی بِن جیرا تیرے پاس ہَے۔ اُس نے جس دِن کہ مَیں مَحنَایم کو گیا بُہت بُری لعنت کرکے مُجھ پر لعنت بھیجی۔ پِھر وہ یردن پر میرے مِلنے کے لِئے آیا تو مَیں نے اُس سے خُداوند کی قَسَم کھائی کہ مَیں تُجھے تلوار سے قتل نہ کرُوں گا۔ 9 ۔ اَور اب تُو اُسے بَری نہ کر۔ کیونکہ تُو عاقل مرد ہَے۔ اَور جانتا ہَے کہ اُس سے کیا کرنا چاہئے۔ تُو اُس کے سفید سِر کو خُون سے قبرمیں نیچے اُتار۔ 10 ۔ داؤد کی وفات پِھر داؤد اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا۔ اَور داؤد کے شہر میں دفن کِیا گیا۔ 11 ۔ اَور وہ ایّام جِن میں داؤد نے اِسرائیل پرسَلطنَت کی چالیس برس تھے۔ اُس نے حبِرون میں سات برس سَلطنَت کی اَور یرُوشلیِم میں تینتیس برس۔ 12 ۔ مُجرموں کی سزا تب سُلیمان اپنے باپ داؤد کے تخت پر بَیٹھا۔ اَور اُس کی سَلطنَت نہایت مستحکم ہُوئی۔ 13 ۔ اَور اَدُونیاہ بِن حِجّیت سُلیمان کی ماں بت سبع کے پاس آیا۔ تو اُس نے کہا۔ کیا تُو صُلح سے آیا ہَے؟ وہ بولا صُلح سے ۔ 14 ۔ پِھر کہا۔ کہ مُجھے تُجھ سے ایک بات کہنی ہَے۔ اُس نے کہا۔ بول۔ 15 ۔ اُس نے کہا تُو جانتی ہَے کہ سَلطنَت میری تھی۔ اَور تمام بنی اِسرائیل کی آنکھیں میری طرف لگی تھیں۔ کہ مَیں سَلطنَت کرُوں۔ لیکن سَلطنَت بَدل کر میرے بھائی کی ہُوئی۔ کیونکہ خُداوند کی طرف سے اُس کے لِئے مُقرّر کی گئی تھی۔ 16 ۔ اب مَیں تُجھ سے ایک بات کا خواہاں ہُوں۔ میرے مُنہ کو رَدّ نہ کر۔ تو اُس نے کہا۔ بتا۔ 17 ۔ اُس نے کہا مِیرے لِئے سُلیمان بادشاہ سے عرض کر۔ کیونکہ وہ تُجھ سے اِنکار نہ کرے گا۔ کہ اَِبی شاگ شُونمیّت کو مُجھے بِیاہ دے۔ 18 ۔ تو بت سبع نے اُس سے کہا۔ اچھّا۔ مَیں بادشاہ سے تیری خواہش کی بابت بات کرُوں گی۔ 19 ۔ اَور بتَ سبع سُلیمان بادشاہ کے پاس گئی۔ تاکہ اَدُونیاہ کے بارے میں اُس سے بات کرے۔ تو بادشاہ اُس کے اِستِقبال کو اُٹھا۔ اَور اُسے سجدَہ کِیا۔ تب وہ اپنے تخت پر بَیٹھا۔ اَور بادشاہ کی ماں کے واسطے تخت لَگایا گیا۔ اِس لِئے وہ اُس کے دہنی طرف بَیٹھی۔ 20 ۔ اَور بولی کہ مَیں تُجھ سے ایک چھوٹی سی درخواست کرتی ہُوں۔ مُجھ سے اِنکار نہ کر۔ بادشاہ نے اُس سے کہا۔ اَے میری ماں۔ بات کر۔ کیونکہ میں تُجھے اِنکار نہ کرُوں گا۔ 21 ۔ تو اُس نے کہا۔ کہ اَبی شاگ شونِمیّت تیرے بھائی اَدُونیاہ کے ساتھ بِیاہی جائے۔ 22 ۔ تو سُلیمان بادشاہ نے جَواب دِیا اَور اپنی ماں سے کہا۔ کہ تُواَدُونیاہ کے لِئے صِرف اَبی شاگ شونُمیّت کو کیُوں مانگتی ہَے؟ بلکہ اُس کے لِئے مُجھ سے سَلطنَت بھی مانگ کیونکہ وہ میرا بڑا بھائی ہَے۔ اُس کے لِئے اَور اِبیاتر کاہِن اَور یوآب بِن ضَرُویاہ کے لِئے۔ 23 ۔ اَور سُلیمان نے خُداوند کی قسَم کھائی۔ اَور کہا۔ خُدا میرے ساتھ ایسا ہی کرے اَور اِس سے زیادہ کرے ۔یقینا اَدُونیاہ نے یہ بات اپنی جان کے خلاف کہی ہَے۔ 24 ۔ زِندہ خُداوند کی قَسَم جس نے مُجھے قِیّام بخشا ہَے۔ اَور مُجھے میرے باپ داؤد کے تخت پر بَٹھایا۔ اَور میرے لِئے اپنے قول کے مُطابِق گھر بنایا ہَے کہ اَدونیاہ آج ہی قتل کِیا جائے گا۔ 25 ۔ اَور سُلیمان بادشاہ نے بنایاہ بِن یہویدع کو بھیجا۔ جس نے اُس پر حملہ کِیا اَور وہ مَرگیا۔ 26 ۔ اَور بادشاہ نے اَبیاتر کاہِن سے کہا۔کہ تُو عنتوت کو اپنے کھیتوں کی طرف چلا جا۔ کیونکہ تُومَوت کا سزاوار ہَے۔ لیکن مَیں آج کے دِن تُجھے قتل نہیں کرواتا۔ کیونکہ تُو نے میرے باپ کے حضُور خُداوند خُدا کا صندُوق اُٹھایا۔ اَور سب تَکلِیف جو میرے باپ نے اُٹھائی تُو نے بھی اُٹھائی۔ 27 ۔ اَور سُلیمان نے اَبیاتر کو خُداوند کی کہانت سے مَعزُول کِیا۔ تاکہ وہ قول جو خُداوند نے سیلا میں عیلی کے گھر کی بابت کہا تھا پُورا ہَو۔ 28 ۔ اَور یہ خبر یوآب کو پُہنچی۔ چُونکہ یوآب اَدُونیاہ کی طرف پِھرا۔ اَور ابی سلوم کی طرف نہیں پِھرا تھا۔ تو یوآب خُداوند کے خَیمے کو بھاگا۔ اَور مذَبح کے سِینگوں کو پکڑلِیا۔ 29 ۔ اَور سُلیمان کو خبر پُہنچی۔ کہ یوآب خُداوند کے خَیمے کو بھاگ گیا۔ اَور مذَبح کے پاس ہَے۔ تو سُلیمان نے بنایاہ بِن یہویدع کو بھیجا اَور کہا۔ کہ جا اَور اُس پر حملہ کر۔ 30 ۔ تب بنایاہ خُداوند کے خَیمے کے اندر آیا۔ اَور اُس سے کہا۔ بادشاہ یُوں کہتا ہَے تُو باہر نِکل۔ اُس نے کہا۔ مَیں نہیں نِکلُوں گا مگر یِہیں مَروں گا۔ تب بنایاہ بادشاہ کے پاس جَواب لے گیا اَور کہا کہ یوآب اِس طرح کہتا ہَے۔ اَور اِس طرح اُس نے مُجھے جَواب دِیا۔ 31 ۔ تو بادشاہ نے اُس سے کہا۔ جیسا اُس نے کہا۔ کر اَور اُسے مار ڈال اَور دفن کر۔ اَور بے گُناہوں کا خُون جو یوآب نے بہایا مُجھ سے اَور میرے باپ کے گھر سے جُدا کر۔ 32 ۔اَور خُداوند اُس کا خُون اُسی کے سِر پرڈالے کیونکہ اُس نے دو بے گُناہ آدمیوں پر جو اُس سے بہتر تھے حملہ کِیا۔ اَور میرے باپ داؤد کے جاننے کے بغیر اُن دونوں کو تلوار سے قتل کِیا۔ یعنی اِسرائیل کے لشکر کے سردار اَبنیربِن نیر کو اَور یہوُداہ کے لشکر کے سَردار عماسا بِن یتر کو ۔ 33 ۔ پس اُن دونوں کا خُون یوآب کے سِر پر اَور اُس کی نَسل کے سِر پر اَبد تک رہے گا۔ لیکنِ داؤد اَور اُس کی نَسل اَور اُس کے گھر اَور اُس کے تخت پر خُداوند کی طرف سے اَبد تک سلامتی ہوگی۔ 34 ۔ چُنانچہ بنایاہ بِن یہویدع گیا اَور اُس پر حملہ کِیا اَور اُسے قتل کِیا اَور وہ بِیابان کے بیچ اپنے گھر میں دفن کِیاگیا۔ 35 ۔اَور بادشاہ نے بنایاہ بِن یہویدع کو اُس کی جگہ لشکر پر مُقرّر کِیا۔ اَور صدوق کاہِن کو اَبیاتر کی جگہ مُقرّر کِیا۔ 36 ۔پھر بادشاہ نےسمِعی کو بُلا بھیجا۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ یرُوشلیِم میں اپنے لِئے گھر بنا۔ اَور وہاں رہ۔ اَور وہاں سے اِدھر اُدھر باہر مت نِکل۔ 37 ۔اَور جان لے کہ جس دِن تُو باہر نِکلا۔ اَور ندی قدرُون کے پار گیا۔ تو تُو ضرُور مارا جائے گا۔ اَور تیرا خُون تیرے سِر پر ہوگا۔ اَور سُلیمان نے اُس سے خُداوند کی قسَم لی۔ 38 ۔ تو سمِعی نے بادشاہ کو جَواب دِیا۔ کہ تُو نے اچھّا کہا۔ جیسے میرے آقا بادشاہ نے کہا تیرا خادِم ویسا ہی کرے گا۔ اَور سمِعی یرُوشلیِم میں بہت دِن رہا۔ 39 ۔ اَور تِین بَرس کے بعد ایسا اِتفاق ہوا۔ کہ سمِعی کے دو غُلام جات کے بادشاہ اکیس بِن مَعَکاہ کے پاس بھاگ گئے۔ تو سمِعی کو خبر دی گئی اَور کہا گیا۔ کہ دیکھ تیرے دونوں غُلام جات میں ہَیں۔ 40 ۔ تب سمِعی اُٹھا۔ اَور اپنے گدھے پر زِین کَسی اَور اپنے غُلاموں کی تلاش میں اکیس کی طرف جات کو روانہ ہُوا۔ اَور سمِعی گیا۔ اَور اپنے غُلاموں کو جات سے لے آیا۔ 41 ۔ اَور سُلیمان کو خبر دی گئی۔ کہ سمِعی یرُوشلیِم سے باہر نِکل کر جات کو گیا تھا۔ اَور واپس آگیا ہَے۔ 42 ۔ تب بادشاہ نے سمِعی کو بُلا بھیجا اَور کہا۔ کیا مَیں نے تُجھے خُداوند کی قسَم نہ دی؟ اَور تاکِید کر کے کہا۔ کہ جس روز تُو باہر نِکلے گا۔ اَور یہاں یا وہاں جائے گا تو جان لے کہ تُو ضرُور مارا جائے گا۔ تو تُو نے مُجھ سے کہا۔ جو تُو نے کہا اچھّا ہَے مَیں نے سُنا۔ 43 ۔ پس کس لِئے تُو نے خُدا کی قَسَم کو اَور جو حُکم مَیں نے تُجھے دِیا تھا، یاد نہ رکھّا؟ 44 ۔ تب بادشاہ نے سمِعی سے یہ بھی کہا۔ کہ تو اُس ساری شرارت کو جانتا ہَے جو تُو نے میرے باپ داؤد سے کی جس سے تیرا دِل واقِف ہَے۔ اِس لِئے خُداوند نے تیری شرارت تیرے ہی سِر پر ڈالی ہَے۔ 45 ۔ لیکن سُلیمان بادشاہ مُبارَک ہوگا۔ اَور داؤد کا تخَت خُداوند کے حضُور اَبد تک پائیدار رہے گا۔ 46 ۔ اَور بادشاہ نے بنایاہ بِن یہویدع کو حُکم دِیا۔ تو اُس نے باہر نِکل کر اُسے مارا تو وہ مَرگیا۔