1 ۔ داؤد کے آخری ایّام اَور داؤد بادشاہ بُوڑھا اَور بڑی عُمر کا ہوگیا۔ اَور وہ اُسے کپڑے پہناتے تھے۔ مگر وہ گرم نہ ہوتا تھا۔ 2 ۔ اِس لِئے اُس کے خادِموں نے اُس سے کہا۔ کہ ہم اپنے آقا بادشاہ کے واسطے ایک جوان کُنواری ڈُھونڈیں۔ جو بادشاہ کے حضُور کھڑی رہے اَور اُس کی خبرگِیری کرے۔ اَور اُس کی بَغل میں سوئے۔ تاکہ ہمارا آقا بادشاہ گرم ہَو۔ 3 ۔چُنانچہ اُنہوں نے اِسرائیل کی تمام سرحدوں میں ایک جواَن خُوبصُورت کُنواری کی تلاش کی۔ تو شونمیت ابی شاگ کو پایا۔ وہ اُسے بادشاہ کے پاس لائے۔ 4 ۔اَور وہ جوان کُنواری بڑی خُوبصُورت تھی۔ وہ بادشاہ کی خبرگِیری اَور خدمت کرتی تھی۔ مگر بادشاہ نے اُس سے صُحبت نہ کی۔ 5 ۔اَور حِجّیت کے بیٹے ادُونیاہ نے اپنے آپ کو بُلند کِیا اَور کہا۔ کہ مَیں بادشاہ ہُوں گا۔ اَور اپنے لِئے رتھ اَور سَوار لِئے اَور پچاس آدمی جو اُس کے آگے آگے دوڑیں۔ 6 ۔ اَور اُس کے باپ نے اُسے کبھی رنجِیدہ نہ کِیا کہ اُس سے کہے۔ کہ تُو نے یہ کیوں کِیا۔ اَور وہ بھی نہایت خُوبصُورت تھا۔ اَور وہ اپنی ماں سے ابی سلوم کے بعد ہُوا۔ 7 ۔ اَور وہ یوآب بِن ضَرُویاہ اَور اِبی یاتر کاہِن سے صلاح لیتا تھا۔ اَور وہ دونوں اُس کی مدد کرتے تھے۔ 8 ۔ مگر صدوق کاہِن اَور بنایاہ بِن یہویدع اَور ناتن نبی اَورسمِعی اَور ریعی اَور داؤد کے بہادُر آدمی اَدُونیاہ کے ساتھ نہ تھے۔ 9 ۔اَور اَدونیاہ نے بھیڑیں اَور بَیل اَور موٹے چَوپائے عین راجل پر ذَبح کِئے۔ جو راجل کے چشمے کے نزدِیک ہَے۔ اَور اپنے سب بھائیوں یعنی بادشاہ کے بیٹوں اَور یہوداہ کے تمام آدمیوں یعنی بادشاہ کے مُلازِموں کی دعوت کی۔ 10 ۔ لیکن ناتن نبی اَور بنایاہ اَور بہادُر آدمیوں اَور سُلیمان اپنے بھائی کو نہ بُلایا۔ 11 ۔ اِس لِئے ناتن نے سُلیمان کی ماں بت سبع سے بات کرکے کہا۔ کیا تُونے نہیں سُنا؟ کہ اَدُونیاہ حِجّیت کا بیٹا بادشاہی کرتا ہَے۔ اَور ہمارے آقا داؤد کو اِس بات کی خبر نہیں۔ 12 ۔اب آ۔ مَیں تُجھے صلاح دیتا ہُوں تاکہ تُو اپنی جان اَور اپنے بیٹے سُلیمان کی جان بچائے۔ 13 ۔ جا اَور داؤد بادشاہ کے پاس داخِل ہَو اَور اُس سے کہہ۔ کیا تُو نے اَے میرے آقا بادشاہ اپنی لونڈی سے قَسم کھا کر نہ کہا؟ کہ یقینا تیرا بیٹا سُلیمان میرے بعد سَلطنَت کرے گا۔ اَور وہ میرے تخت پر بَیٹھے گا۔ پس اَدُونیاہ کیسے بادشاہی کرتا ہَے؟ 14 ۔ اَور جس وقت کہ تُو وہاں بادشاہ کے ساتھ بات کرتی ہوگی۔ مَیں بھی تیرے پیچھے آوُں گا اَور تیری بات کی تائید کرُوں گا۔ 15 ۔تب بتَ سبع بادشاہ کے پاس کمرے کے اندر گئی۔ اَور بادشاہ بُہت بُوڑھا تھا۔اَور شوُنمیّت اَبی شاگ اُ س کی خدمت کرتی تھی۔ 16 ۔ اَور بَت سبع بادشاہ کو سجدَہ کرنے کے لِئے گِری۔ تو بادشاہ نے کہا۔ تُوکیا مانگتی ہَے؟ 17 ۔ تو اُس نے کہا۔ اَے میرے آقا! تُو نے اپنی لونڈی سے خُداوند اپنے خُداکی قسم کھا کر کہا کہ سُلیمان تیرا بیٹا میرے بعد سَلطنَت کرے گا۔ اَور وہی میرے تخت پر بَیٹھے گا۔ 18 ۔ اَوراَ ب دیکھ۔ کہ اَدُونیاہ بادشاہی کرتا ہَے اَور تُجھے اَے میرے آقا بادشاہ خبر نہیں ہُوئی۔ 19 ۔ اَور اُس نے بُہت بَیل اَور موٹے چوپائے اَور بھیڑیں ذَبح کی ہَیں اَور بادشاہ کے سب بیٹوں اَور اَبیاترکاہِن اَور لشکر کے رَئیس یوآب کی دعوت کی ہَے۔ لیکن تیرے خادِم سُلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا۔ 20 ۔ اَور اب اَے میرے آقا بادشاہ! تمام اِسرائیل کی آنکھیں تیری طرف ہَیں۔ تاکہ تُو اُنہیں بَتائے۔ کہ میرے آقا بادشاہ کے تخت پر اُس کے بعد کون بَیٹھے گا۔ 21 ۔ اَور ایسا ہوگا۔ کہ جب میرا آقا بادشاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا۔ تو مَیں اَور میرا بیٹا سُلیمان مُجرِم ٹھہریں گے۔ 22 ۔ اَور جس وقت وہ بادشاہ کے ساتھ بات کررہی تھی۔ تو ناتن نبی آ پُہنچا۔ 23 ۔ اَور اُنہوں نے بادشاہ کو خبر دی اَور کہا۔ کہ ناتن نبی آیا ہَے۔ تو وہ بادشاہ کے حضُور اندر آیا۔ اَور اپنا مُنہ زمین پر رکھّ کر بادشاہ کو سجدَ ہ کِیا۔ 24 ۔اَور ناتن نے کہا۔ اَے میرے آقا بادشاہ! کیا تُو نے کہا ہَے۔ کہ اَدونیاہ میرے بعد بادشاہی کرے گا۔ اَور وہی میرے تخت پر بَیٹھے گا؟ 25 ۔ کیونکہ وہ آج گیا ہَے اَور بُہت سے بَیل اَور موٹے چَوپائے اَور بھیڑیں ذَبح کی ہَیں۔ اَور بادشاہ کے تمام بیٹوں اَورلشکر کے سرداروں اَور اِبیاتر کاہِن کی دعوت کی ہَے۔ اَور دیکھ وہ اُس کے آگے کھاتے اَورپِیتے ہَیں اَور کہتے ہَیں کہ اَدُونیاہ بادشاہ زندہ رہَے۔ 26 ۔ لیکنِ مُجھے تیرے خادِم اَور صدوق کاہِن اَوربنایاہ بِن یہویدع اور تیرے خادِم سُلیمان کو اُس نے نہیں بُلایا۔ 27 ۔ تو کیا یہ حُکم میرے آقا بادشاہ کے حضُور سے نِکلا ہَے؟ اَور کیا تُو نے اپنے خادِم کو نہیں بتایا؟ کہ میرے آقا بادشاہ کے تخت پر اُس کے بعد کون بَیٹھے گا۔ 28 ۔ تب داؤد بادشاہ نے جَواب دِیا اَور کہا۔ کہ بَت سبع کو میرے پاس بُلاؤ۔ تو وہ بادشاہ کے حضُور اندر آئی۔ اَور بادشاہ کے سامنے کھڑی ہُوئی۔ 29 ۔ تب بادشاہ نے قَسم کھائی اَور کہا زندہ خُداوند کی قَسم ۔ جس نے میری جان کو تمام مُصِیبت سے بچایا ہَے۔ 30 ۔یقینًا جیسے مَیں نے تُجھ سے خُداوند اِسرائیل کے خُدا کی قَسم کھائی اَور کہا۔ کہ سُلیمان تیرا بیٹا ہی میرے بعد سَلطنَت کرے گا۔ اَور وہی میری جگہ میرے تخت پر بَیٹھے گا۔ لہٰذا ایسا ہی مَیں آج کے دِن کرُوں گا۔ 31 ۔ تب بت سبع بادشاہ کے آگے اپنے مُنہ کے بَل زمین پر گِری اَور کہا۔ میرا آقا بادشاہ داؤد! ابدتک زِندہ رہَے۔ 32 ۔ سُلیمان بادشاہ اَور داؤد بادشاہ نے کہا۔ کہ صدوق کاہِن اَور ناتن نبی اَور بنایاہ بِن یہویدع کو میرے پاس بُلاؤ۔ پس وہ بادشاہ کے سامنے اندر آئے۔ 33 ۔ تو بادشاہ نے اُن سے کہا۔ کہ اپنے آقا کے خادِموں کو اپنے ساتھ لو۔ اَور میرے بیٹے سُلیمان کو میرے خَچّرپر سَوار کرو۔ اَور اُس کے ساتھ جیحون تک جاؤ۔ 34 ۔ اَور وہاں اُسے صدوق کاہِن اَور ناتن نبی مَسح کرکے اِسرائیل کا بادشاہ بنائیں۔ اَور تُم نَرسِنگا پُھونکو۔ اَور کہو۔ کہ سُلیمان بادشاہ زِندہ رہَے۔ 35 ۔ اَور تُم اُس کے پیچھے آؤ۔ تو وہ آئے۔ اَور میرے تخت پر بَیٹھے۔ اَور وہ میری جگہ بادشاہی کرے گا کیونکہ اُسی کی بابت مَیں نے حُکم دِیا ہَے۔ کہ وہ اِسرائیل اَور یہُوداہ کا بادشاہ ہوگا۔ 36 ۔ تب بنایاہ بِن یہویدع نے بادشاہ کو جَواب دِیا۔ اَور کہا۔ آمین۔ ایسا ہی خُداوند میرے آقا بادشاہ کا خُدا فرمائے۔ 37 ۔ اَور جس طرح سے کہ خُداوند میرے آقا بادشاہ کے ساتھ تھا۔ سُلیمان کے ساتھ بھی ہَو۔ اَور اُس کے تخت کو میرے آقا بادشاہ داؤد کے تخت سے بڑا کرے۔ 38 ۔ چُنانچہ صدوق کاہِن اَو رناتن نبی اَور بنایاہ بِن یہویدع اَور کریتی اَور فلیتی گئے۔ اَور سُلیمان کو داؤد بادشاہ کے خچَّر پر سَوار کِیا۔ اَور اُس کے ساتھ جیحون کی طرف روانہ ہُوئے۔ 39 ۔ اَور صدوق کاہِن نے مَسکِن سے تیل کا سِینگ لِیا۔ اَور سُلیمان کو مَسح کِیا۔ تب اُنہوں نے نرسِنگا پُھونکا۔ اَور سب لوگ پُکارے۔ سُلیمان بادشاہ سلامت رہَے۔ 40 ۔ اَور سب لوگ اُس کے پیچھے آئے۔ اَور لوگ شہنائی بجاتے ہُوئے چلے جاتے تھے۔ اَور بُہت خُوشی کرتے تھے۔ یہاں تک کہ زمین اُن کی آوازوں سے گُونج اُٹھی۔ 41 ۔ اَور اَدُونیاہ نے اَور اُن سب نے سُنا جو اُس کے پاس دعوت میں بُلائے گئے تھے۔ اَور وہ کھانے سے فارِغ ہُوئے ہی تھے۔ اَور یوآب نے نرسِنگے کی آواز سُنی تو کہا۔ کہ یہ آواز کیسی ہَے جِس سے کہ شہر میں اِضطِراب ہَے۔ 42 ۔ اَور ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا۔ کہ اِبیاتر کاہِن کا بیٹا یونتن آیا۔ اَدُونیاہ نے اُس سے کہا۔ اندر آجا۔ کیونکہ تُو لائق شخص ہَے۔ اَور اَچھّی خبر لاتا ہَے۔ 43 ۔ تویونتن نے جَواب میں اَدُونیاہ سے کہا۔ درحقیقت ہمارے آقا بادشاہ داؤد نے سُلیمان کو بادشاہ مُقرّر کِیا ہَے۔ 44 ۔ اَور بادشاہ نے اُس کے ساتھ صدوق کاہِن اَور ناتن نبی اَور بنایاہ بِن یہویدع اَور کریتیوں اَور فلیتیوں کو بھیجا۔ لہٰذا اُنہوں نے اُسے بادشاہ کے خچَّر پر سَوار کِیا۔ 45 ۔ اَور صدوق کاہِن اَورناتن نبی نے اُسے جیحون میں مَسح کرکے بادشاہ بنایا ہَے۔ اَور وہاں سے وہ خُوشی کرتے ہُوئے آئے ہَیں۔تو شہر میں اِضطِراب ہُوا۔ اَور یہ وہی آواَز ہَے جو تُم نے سُنی۔ 46 ۔ اَور سُلیمان سَلطنَت کے تخت پر جلُوس فرما ہو بھی گیا ہے ۔ 47 ۔ اَور بادشاہ کے خادِموں نے آکر ہمارے آقا بادشاہ داؤد کو مُبارَک باد دی اَور کہا۔ کہ تیرا خُدا سُلیمان کے نام کو تیرے نام سے ممتازکرے۔ اَور اُس کے تخت کو تیرے تخت سے بڑا کرے۔ تب بادشاہ نے اپنے پلنگ پر سجدَہ کِیا۔ 48 ۔ اَور بادشاہ نے بھی یُوں کہا۔ خُداوند اِسرائیل کا خُدا مُبارَک ہو۔ جس نے آج مُجھے ایک وارث دِیا ہَے۔ جو میری آنکھوں کے دیکھتے ہُوئے میرے تخت پر بَیٹھے۔ 49 ۔ تب اَدُونیاہ کے سارے مہمان ڈر گئے۔ اَور اُٹھے۔ اَور ہر ایک اپنی راہ چلا گیا۔ 50 ۔اَور اَدُونیاہ سُلیمان سے ڈر کر اُٹھا۔ اَور جا کر مذَبح کے سینگوں کو پکڑا ۔ 51 ۔ اَور سُلیمان کو خبر دی گئی اَور کہا گیا۔ دیکھو۔ اَدُونیاہ سُلیمان بادشاہ سے ڈرتا ہَے۔ اَور دیکھو۔ وہ مذَبح کے سینگوں کو پکڑے ہُوئے کہتا ہَے۔ کہ سُلیمان بادشاہ آج مُجھ سے قَسَم کھائے۔ کہ وہ اپنے خادِم کو تلوار سے قتل نہ کرے گا۔ 52 ۔تب سُلیمان نے کہا۔ اگر وہ لائق ثابت ہو۔ تو اُس کا ایک بال بھی زمین پر نہ گِرے گا۔ پراگر اُس میں بَدی پائی گئی۔ تو وہ مارا جائے گا۔ 53 ۔ تب سُلیمان بادشاہ نے آدمی بھیجا۔ اَور اُسے مذَبح سے نیچے اُتارا۔ تو وہ آیا اَور سُلیمان بادشاہ کو سجدَہ کِیا۔ اَور سُلیمان نے اُس سے کہا کہ اپنے گھر کو چلا جا۔