1 ۱۔ اِن باتوں کے بعد پولس اتھینے سے کرنتھس روانہ ہوا۔ 2 ۲۔ وہاں وہ اکولہ نام یہودی سے ملا جو پیدائش کے اعتبار سے پنطُس کا تھا؛ وہ حال ہی میں اپنی بیوی پرسکلہ کے ساتھ اطالیہ سے آیا تھا، کیونکہ کلودیس نے سب یہودیوں کو حکم دیا تھا کہ روم کو چھوڑ دیں؛ اور پولس اُن کے پاس گیا۔ 3 ۳ پولس اُن کے ساتھ رہتا اور کام کرتا تھا کیونکہ وہ ایک ہی کاروبار کرتے تھے، خیمہ دوزی کرتے تھے۔ 4 ۴۔ پولس ہر سبت عبادت خانوں میں دلائل دیتا، وہ یہودیوں اور یونانیوں دونوں کو قائل کرتا۔ 5 ۵۔ جب سیلاس اور تیمتھیس مُکدونیہ سے آئے تووہاں رُوح نے پولس کو قائل کیا کہ یہودیوں کو گواہی دے کہ یسوع ہی مسیح تھا۔ 6 ۶۔ جب یہودی اُس کے مخالف ہوئے اور بیعزت کرنے لگے پولس نے اپنے کپڑے اُن کی طرف جھاڑ کر کہا، ’’ تمہارا خون تُمہاری ہی گردن پر ہو؛ میں پاک ہوں، اب غیر قوموں میں جاؤں گا۔ 7 ۷۔ پھر وہ وہاں سے گیا اور ایک خدا پرست آدمی طِطس یوستس کے گھر آیا۔ اُس کا گھرعبادت خانہ سے آگے ہی تھا۔ 8 ۸۔ عبادت خانوں کا رہنما کرسپس اور اُس کے سب گھر والے ایماندار تھے؛ بہت سے کرنتھی جنہوں نے پولس کو سُنا ایمان لائے اور بپتسمہ لیا۔ 9 ۹۔ خدا نے رات کے وقت پولس سے رویامیں کہا، ’’ خوف نہ کر، بلکہ بول اور خاموش مت رہ۔ 10 ۱۰۔کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں، اور کوئی تجھے نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے گا، کیونکہ اِس شہر میں میرے بہت سے لوگ ہیں۔ 11 ۱۱۔ پولس وہاں ایک سال اور چھ مہینے رہا اور ان کے درمیان خدا کے کلام کی تعلیم دیتارہا۔ 12 ۱۲۔ جب گلیو، اخیہ کا صوبہ دار بنا تو یہودی پولس کےخلاف چڑھ آئے اور اُسے صوبہ دار کے سامنے پیش کیا؛ 13 ۱۳۔ اُنہوں نے کہا، یہ آدمی شریعت کے خلاف خدا کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے۔ 14 ۱۴۔ پولس ابھی بولنے ہی والا تھا، گلیو نے یہودیوں سے کہا، تُم یہودیو، اگر یہ واقعی ہی غلطی اور جُرم کا معاملہ ہے، تو تم سے بات کرنا مناسب ہو گا۔ 15 ۱۵۔ لیکن جب سے یہ سوالات کلام اور ناموں اور تُمہاری شریعت کی بات ہے تو اِسے خود ہی طے کرو، میں ان باتوں میں منصف نہیں بنتا۔ 16 ۱۶۔ گلیو نے اُنہیں تخت عدالت سے نکلوا دیا۔ 17 ۱۷۔ پس اُنہوں نے عبادت خانہ کے حاکم سوستھیسنس کو پکڑ کر عدالت کے سامنے مارا، لیکن گلیو نے اس کی پرواہ نہ کی۔ 18 ۱۸۔ پولس نے وہاں کچھ او دن ٹھہرنے کے بعد بھائیوں کو چھوڑا اور پرسکلہ اور اکولہ کے ساتھ جہاز پر سُوریہ کو روانہ ہوا، کنخریہ کے بندر گاہ پر اس نے سر منڈوایا کیوکہ اس نے منت مانی تھی۔ 19 ۱۹ جب وہ افسس آئے، پولس نے پرسکلہ اور اکولہ کو وہاں چھوڑا اور خود عبادت خانہ میں گیا اور یہودیوں سے بحث کی۔ 20 ۲۰۔ جب پولس کو زیادہ عرصہ وہاں رہنے کے لئے کہا گیا، اُس نے انکار کیا۔ 21 ۲۱۔ لیکن یہ کہہ کر اُن سے روانہ ہوا، اگر خدا کی مرضی ہوئی تو میں تُمہارے پاس دوبارہ آؤں گا۔ پھر وہ افسس کے لئے روانہ ہوا۔ 22 ۲۲۔ پھر قیصریہ میں اُتر کر یروشلیم میں کلیسیا کو سلام کر کے انطاکیہ کو گیا۔ 23 ۲۳۔ اور کچھ وقت وہاں گزرنے کے بعد پولس رخصت ہوا اور گلتیہ اور فروگیہ کے علاقہ سے گزرتا ہوا گیا اور تمام شاگردوں کی حوصلہ افزائی کی۔ 24 ۲۴۔ پھر اپلوس نام ایک یہودی اسکندریہ کی پیدائش افسس میں آیا۔ وہ خوش تقریر اور کلام مقدس میں ماہر تھا۔ 25 ۲۵۔ اپلوس نے خدا کی راہ کی تعلیم پائی تھی رُوح سے معمور، جو باتیں یسوع سے تعلق رکھتی تھیں وہ ٹھیک بولتا اور سکھاتا، لیکن وہ صرف یوحنا کے بپتسمہ کے بارے میں جانتا تھا۔ 26 ۲۶۔ اپلوس عبادت خانہ میں دلیری سے بولنے لگا۔ لیکن جب پرسکلہ اور اکولہ نے اُسے سُنا، انہوں نے اُس سے دوستی کی اور خدا کے راہ کی تعلیم بہتر طور پر اُسے بیان کی۔ 27 ۲۷۔ جب اُس نے اخیہ کے پار جانے کا ارادہ کیا، بھائیوں نے اُس کی حوصلہ افزائی کی اور شاگردوں کو لکھا کہ اُسے خوش آمدید کہیں۔ جب وہ پہنچا، اُس نے اُن کی مدد کی جو فضل سے ایمان لائے تھے۔ 28 ۲۸۔ اپلوس اپنی قوت اور مہارت سے یہودیوں کو قائل کرتا اور کلام مقدس سے ثابت کرتا کہ یسوع ہی مسیح ہے۔