1 ۱۔ وہ باتیں جو تم نےمجھے لکھ بھیجی ہیں اُن کے بارے میں میرا کہنا یہ ہے کہ مرد کے لئے اچھا ہے کہ وہ عورت کو نہ چھوئے۔ 2 ۲۔ البتہ بہت ساری غیر اخلاقی آزمائشوں سے بچنے کے لئے ہر مرد کو ایک بیوی اور ہر عورت کو ایک شوہر رکھنا چاہیے۔ 3 ۳۔ شوہرکو اپنی بیوی کو ازدواجی حق دینا چاہئے اُسی طرح بیوی کو بھی اپنے شوہر کو ازدواجی حق دینا چاہئے۔ 4 ۴۔ جس طرح کوئی بھی بیوی نہیں جس کو اپنے بدن پر اختیار ہے بلکہ شوہر کواپنے بدن پر اختیار نہیں بلکہ بیوی کو۔ 5 ۵۔ لہذا تم ایک دوسرے سے جدا نہ رہو مگر کچھ خاص وقت کے لئے آپس کی رضا مندی سے جدا رہوتاکہ تم اپنے آپ کو دعا کے لئے وقف کر سکو،اِس کے بعد تمہیں پھر اکٹھا ہو جانا چاہئے تاکہ تمہارے ضبِط نفس کی کمی کی وجہ سے شیطان تمہیں آزما نہ سکے۔ 6 ۶۔ میں یہ سب باتیں تمہیں حکم دیتے نہیں بلک (اجازت) دیتے ہوئے کہتا ہوں۔ 7 ۷۔میری تو یہی خواہش ہے کہ ر ایک میری طرح ہی کا بنے، مگر ہر ایک کو خدا نے الگ الگ نعمت دی ہے، کسی کو اِس طرح کی نعمت ملی ہے تو کسی کواور طرح کی۔ 8 ۸۔ غیر شادی شدہ اور بیواؤں کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر وہ میری طرح شادی کیے بغیر رہیں تو بہت بہتر ہے۔ 9 ۹۔ لیکن اگر کوئی اپنے آپ پر ضبط نہ کر سکے تو اُن کو ضرور شادی کرلینی چاہیے، پس اُن کا شادی کرنا اپنے جذبات میں جلنے سے بہتر ہے۔ 10 ۱۰۔ اب شادی شدہ کو میں نہیں بلکہ خدا حکم دیتا ہے کہ’’ بیوی اپنے شوہر سے جدا نہ رہے۔ 11 ۱۱۔ (لیکن اگر وہ اپنے شوہر سے جدا ہوتی ہے تو وہ بن بیاہی رہے یا پھر اُس سے دوبارہ ملاپ کر لے اور نہ ہی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے)۔ 12 ۱۲۔ لیکن باقیوں سے میں نہیں بلکہ خدا کہتا ہے کہ اگر کسی بھائی کی وہ بیوی جو ایک غیر ایمان دار ہو اور وہ اُس کے ساتھ مستقل رہے وہ اُسے ہرگز طلاق نہ دے۔ 13 ۱۳۔ اگر کسی عورت کا غیر ایمان دار شوہر اُس کے ساتھ مستقل رہے تو وہ اُسے طلاق نہ دے۔ 14 ۱۴۔ اِسی طرح غیر ایمان دار شوہر اپنی ایمان دار بیوی کے باعث پاک ٹھہرا اور اِسی طرح غیر ایمان دار بیوی اپنے ایمان دار شوہر کے باعث پاک ٹھہری ورنہ تمہارے بچے(اولاد) ناپاک ہوتے مگر اب وہ پاک ہیں۔ 15 ۱۵۔ لیکن اگر کوئی غیر مسیحی شوہر جدا ہونا چاہے تو اُسے ہونے دو،اِس طرح کی حالت میں کوئی بھائی یا بہن اپنے وعدوں کے پابند نہیں کہ خدا نے ہمیں امن کے لئے بلایا ہے۔ 16 ۱۶۔ کیونکہ اے عورت! تجھے کیا معلوم کہ شاید تو اِسی طرح اپنے شوہر کو بچا لے اور اے مرد ! تجھے کیا معلوم کہ شاید تو اِسی طرح اپنی بیوی کو بچا لے۔ 17 ۱۷۔ جس طرح خدا نے ہر ایک کو زندگی گزارنے کے لئے بلایا ۔وہ اُسی طرح گزارے،میرا یہ حکم تمام کلیسیاؤں کے لئے ہے۔ 18 ۱۸۔ کیا اُس نے صرف مختونون کو ایمان میں بلایا تھا؟ اِس لئے میں نے اُس کی نامختونی کا نشان ظاہرکرنے کی کوشش نہیں کی، کیا ہر ایک نامختونی تھا، جب اُس نے اُسے ایمان کے لئے بلایا تھا؟ وہ مختونی نہیں ہوناچاہیے۔ 19 ۱۹۔ اِس طرح مختونی و نا مختونی کا کوئی مسئلہ نہیں رہا، کیا یہ خدا کے احکام کی فرماں برداری کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے؟ 20 ۲۰۔ پس ہر ایک کو اپنے بلاوے کے مطابق خدا کے ساتھ رہنا چاہیے 21 ۲۱۔ کیا تم غلام تھے جب خدا نے تمہیں بلایا؟ تمہیں اِ س سے کوئی مطلب نہیں لیکن اب تم آزاد ہو گئے ہو تم بھی ایسا ہی کرنا۔ 22 ۲۲۔ پس جو کوئی غلامی کی حالت میں بلایا گیا وہ خدا کا آزاد کیا ہوا ہے،اُس طرح اگر کوئی آزادی کی حالت میں بلایا گیا ہو تو وہ مسیح کا غلام ہے۔ 23 ۲۳۔ پس تم قیمت سےخریدے گئے ہو، اِس لئے تم آدمیوں کے غلام نہ بنو، 24 ۲۴۔ اے بھائیو اور بہنو!ہم میں سے جو کوئی جس حالت میں ایمان کے لئے بلایا گیا تھاوہ اُسی طرح رہے۔ 25 ۲۵۔ اب میں غیر شادی شدہ کے بارے میں بات کرتا ہوں، میرے پاس اُن کے لئے خدا کی طرف سے کوئی حکم نہیں ہے بلکہ ایسوں کے لئے(اُس رحم کے مطابق جوخدا کا مجھ پر ہے) جو قابلِ بھروسہ (امانت دار) ہیں۔میرا اُن کے لئے یہی مشورہ ہے۔ 26 ۲۶۔ اور یہی خیال ہے کہ وہ موجودہ مشکلات سے بچنے کے لئے جیسے ہیں وہ ویسے ہی رہیں۔ 27 ۲۷۔ کی اگر تیری کوئی بیوی ہے تو تو اُس سے طلاق حاصل کرنے کی کوشش نہ کر،اگر توکنوارہ ہے تو اپنے لئے بیوی کی تلاش نہ کرو۔ 28 ۲۸۔ اور اگر تو شادی کرے تو یہ تیرے لئے کوئی گناہ نہیں ہے،اَسی طرح اگر کوئی کنواری شادی کر ے تو یہ اُس کے لئے کوئی گناہ نہیں ہے ،مگر وہ جو شادی کریں گے وہ بہت سی مشکلات میں مبتلا ہوں گے مگر میں تمہیں اِ ن سے بچانا چاہوں گا۔ 29 ۲۹۔ پس بھائیو اور بہنو! میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ وقت تھوڑا ہے،پس آگے کو چاہیے کہ جن کی بیویاں ہیں وہ ایسے رہیں جیسے اُن کی بیویاں نہیں ہیں۔ 30 ۳۰۔ رونے والے ایسے ظاہر کریں گویا وہ نہیں روتے، وہ جو خوشی کرنے والے ہیں ایسے خوشی کریں جیسے وہ خوشی نہیں کرتے،خریدنے والے ایسے خریدیں جیسے وہ کچھ نہیں خریدتے۔ 31 ۳۱۔ اوروہ جو دنیاوی کاروبار کرتے ہیں،اُنہیں ایسا ہونا چاہیے جیسے اُنہوں نے کوئی کاروبر نہیں کیا کیونکہ اِس دنیا کا نظام ختم ہو رہا ہے۔ 32 ۳۲۔ میں تمہیں پریشانیوں سے آزاد کرنا چاہتا ہوں، غیر شادی شدہ انسان خداوند کو خوش کرنے والی باتوں کی فکر کرتا ہے کہ کیسےخداوند کو خوش کرے۔ 33 ۳۳۔ جبکہ شادی شدہ آدمی اپنی بیوی کو خوش کرنے والی چیزوں کی فکر کرتا ہے کہ کس طرح بیوی کو خوش کرے۔ 34 ۳۴۔اُس نے بیاہی اور کنواری کی تفریق کی ہے کہ کنواری خداوند کی فکر کرتی ہے تاکہ اُس کا جسم اور روح دونوں پاک ہوںمگر بیاہی دنیا کی فکر کرتی ہے کہ کس طرح وہ اپنے شوہر کو راضی کرے۔ 35 ۳۵۔ پس میں یہ سب تمہارے فائدے کے لئے کہتا ہوں نہ کہ تمہیں پھنسانے کے لئے بلکہ میں یہ سب اِس لئے کہتا ہوں کہ تم خداوند کے ساتھ بغیر خلل کے وقف رہو۔ 36 ۳۶۔ اور اگر کوئی یہ خیال کرے کہ اس نے اپنی لڑکی کی شادی نہ کر کے اس کی ھقلتلفی کی ہے اور اب اس کی تلافی کرنی چاہئے تو وہ اس کی شادی کر دے۔ 37 ۳۷۔ لیکن اگر اُس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو اور وہ اپنے اِس فیصلے پر عمل کرنے پر قادر بھی ہو تو وہ اپنی لڑکی کی شادی نہ کرے بہت اچھاکرتا ہے۔ 38 ۳۸۔ جو کوئی اپنی کنواری لڑکی کی شادی کرتا ہے وہ اچھا کرتا ہے اور جو کوئی اپنی لڑکی کی شادی نہیں کرتا وہ بہت ہی اچھا کرتا ہے۔ 39 ۳۹۔ کیونکہ ایک بیوی اپنے شوہر کی مرتے دم تک پابند ہے مگر جب اُس کا شوہر مر جائے تو وہ صرف خداوند میں جس سے چاہے شادی کر سکتی ہے۔ 40 ۴۰۔ میرے خیال میں جیسی وہ ہے ویسی ہی رہے تو زیادہ بہتر ہے اور میری نظر میں وہ اِس طرح زیادہ خوشی رہ سکے گی اور میرا خیال ہے کہ خدا کی روح مجھ میں بھی ہے۔