باب

1 ۔حَنّہ کا گیِت اَور حَنّہ نے دُعا مانگی اَور کہا۔ میرا قلب خُداوند میں خُوش وخُرّم ہے۔ میرا سینگ خُدا میں بُلند وفراز ہے۔ میرے دُشمنوں پر میرا مُنہ کُشادہ ہے۔ کیونکہ تیری مدد سے مَیں خُوش ہوئی ہوں۔ 2 ۔خُداوند کی مانند کوئی قُدُّوس نہیں۔ ہاں۔ تیرے سِوا اَور کوئی ہے ہی نہیں۔ ہمارے خُدا سی چٹان کوئی نہیں ۔ 3 ۔ غرُور سے تُم زیادہ باتیں نہ کرو۔ تُمہارے لبوں سے بڑا بول نہ نِکلے۔ خُداوند وُہی تو خُدائے علیِم ہے۔ وُہی اعمال کا اندازہ لگانے والا ہے 4 ۔ زور مندوں کی کمانیں ٹُوٹی جارہی ہیں۔ لرزتوں کی کَمریں قُوّت سے کَسی ہیں 5 ۔ سیر شُدہ کھا نے کے لئے اَجیربن گئے۔ اَور بھُوکے روزگارسے سستانے لگے۔ جو بے اولاد تھی اُس کے سات ہوتے ہیں۔ اَور بہتُوں کی ماں مُرجھارہی ہے۔ 6 ۔خُداوند ہی مارتا۔ جلاِتا وُہی ہے۔ پاتال میں اُتارتا۔ پِھر لاتاوُہی ہے 7 ۔ خُداوند غریب وغنی کو بناتا۔ پست حال اَور مغزّز وُہی ہے بناتا ۔ 8 ۔کنگال کو وُہ خاک سے اُٹھالیتاہے۔ مِسکیِن کو کُوڑے میں سے کھڑا کرتاہے۔ امیروں کے ہاں تاکہ اُسے بٹھائے۔ اَور تختِ جلالی کا وارِث بنائے۔ خُداوند کے ہیں اِس زمین کے ستُون۔ اُنہی پر جہان اُس نے قائم رکھّا ہے 9 ۔مُقدّسوں کے پاؤں کو سنبھالے رہے گا۔ تارِیکی میں بَدکار فنا ہوجائیں گے۔ نہیں اپنی قُوّت سے قَوی اِنسان۔ 10 ۔ جو خداوند سے لڑتے ہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ وہ اُن کے خلاف آسمان سے گرجے گا۔ حُدُودِ زمین کا ہوگا رَبّ ہی عادِل۔ وہ اپنے ہی بادشاہ کو طاقت بخشے گا۔ بُلند اپنے ممسُوح کا سینگ وہ کرے گا۔ 11 ۔ پِھر اِلقانہ رامہ کو اپنے گھر چلاگیا۔ لیکن وہ لڑکا عیلی کاہن کے آگے خُداوند کی خدمت کرتاتھا۔ 12 ۔ عیلی کے بیٹوں کی شرارت اَور عیلی کے بیٹےشریر تھے وُہ خُداوند کونہ جانتے تھے۔ 13 ۔ اَور نہ ہی اُس حَق کو جو کاہن کا لوگوں کی طرف سے ہے۔ جو کوئی آدمی خُداوند کے لئے قُربانی ذَبح کرتا۔ تو گوشت کے پکتے وقت کاہن کا نوکر سہ شاخہ کانٹا ہاتھ میں لئے ہوئے آتا۔ 14 ۔ اَور اُس کو کڑاہ یا دیگچہ یا کڑاہی یا ہانڈی میں مارتا۔تو جِتنا کانٹے کے ساتھ نِکلتا وہ کاہن اپنے واسطے لے لِیا کرتا تھا۔ لہٰذا وہ تمام اِسرائیل کے ساتھ جو سیلا میں آتے ایسا ہی کرتے تھے۔ 15 ۔ اَور ایسا ہی چربی کے جَلائے جانے سے پیشتر کاہن کا نوکر قُربانی کرنے والے شخص کے پاس آتا اَور اُس سے کہتا۔ کہ کاہن کے واسطے کباب کا گوشت دو۔ کیونکہ وہ تُجھ سے پکا ہوا گوشت نہیں بلکہ کچّا لے گا۔ 16 ۔ اَور اگر وہ آدمی جَواب دیتا۔ کہ ٹھہر جا۔ تاکہ چربی جَلائی جائے۔ پِھر جِتنا تُو چاہے لے لینا۔ تو وہ اُسے جَواب دیتا کہ ہرگز نہیں۔ بلکہ تُو مُجھے ابھی دے۔ نہیں تو مَیں تُجھ سے جبراً لے لُوںگا۔ 17 ۔ اَور اُن جوانوں کا گُناہ خُداوند کے سامنے بُہت بڑھ گیا۔ کیونکہ لوگ خُداوند کی قُربانی کی تحقیِر کرنے لگ گئے۔ 18 ۔ اَور سمُوئیل خُداوند کے سامنے خدمت کرتا تھا۔ وُہ لڑکا ہی تھا۔ اَور کتان کے افود کا کمَربند باندھے رہتا۔ 19 ۔ اَور اُس کی ماں اُس کے لئے ایک چھوٹا چوغہ بناتی۔ اَور مقررہ اوقات پر جب اپنے شوہر کے ساتھ قُربانی گُزراننے کو اُوپر آتی۔ تو اُسے لاتی۔ 20 ۔ اَور عیلی نے اِلقانہ اَور اُس کی بیوی کو برکت دی اَور اُس سے کہا۔ خُداوند تُجھے اِس عورت سے نسل دے۔ اُس نَذَر کے عوض میں جو تُو نے خُداوند کو دی۔ پِھر وہ دونوں اپنے گھر کو چلے گئے۔ 21 ۔ اَور خُداوند نے حَنّہ پر نظر کی۔ تو وہ حامِلہ ہوئی۔ اَور اُس سے تین بیٹے ہوئے اَور دو بیٹیاں اَور وہ لڑکا سمُوئیل خُداوند کے حضُور بڑھتا گیا۔ 22 ۔اَور عیلی بُہت بُوڑھا ہوگیا۔ اَور اُس نے سب کُچھ سُنا۔ جو کُچھ اُس کے بیٹے تمام اِسرائیل سے کرتے تھے اَور کہ کیوں کر وہ اُن عورتوں کے پاس جاتے تھے جو خَیمہ ا جتماع کے دروازہ پر نِگہبانی کرتی تھیں۔ 23 ۔ تو اُس نے اُن سے کہا۔ کہ تُم یہ کام کیوں کرتے ہو؟ اَور یہ کیسی بُری خبر ہے۔ جو اِن تمام لوگوں سے مَیں تُمہاری بابت سُنتا ہوں۔ 24 ۔ نہیں اَے میرے بیٹو! کیونکہ جو خبر مَیں تُمہاری بابت سُنتا ہوں۔ وُہ اچھّی نہیں۔ تم خداوند کے لوگوں سے نا فرمانی کراتے ہو۔ 25 ۔ اگر ایک اِنسان دُوسرے اِنسان کا گُناہ کرے۔ تو خُداوند اِنصاف کرے گا۔ لیکن اگر کوئی اِنسان خُداوند کا گُناہ کرے تو درمیانی کون ہوگا؟ اَور اُنہوں نے اپنے باپ کی بات نہ سُنی۔ کیونکہ خُداوند اُنہیں مارڈالنا چاہتاتھا۔ 26 ۔ اَور وہ لڑکا سمُوئیل بڑھتاگیا۔ اَور خُداوند اَور آدمیوں کے سامنے مقبُول تھا۔ 27 ۔ بنی عیلی کی ہلاکت کی پیشین گوئی اَور ایک مَردِ خُدا عیلی کے پاس آیا اَور اُس سے کہا۔ کہ خُداوند یُوں کہتاہے کہ کیا مَیں تیرے باپ کے گھر پر جب وہ مِصر میں فرعُون کے گھر میں غُلام تھا۔ ظاہر نہیں ہوا؟ 28 ۔ اَور اِسرائیل کے تمام قبائل میں سے مَیں نے اُسے اپنا کاہن چُن لِیا۔ کہ میرے مذَبح پر جائے۔ اَور خُوشبو جلائے۔ اَور میرے سامنے افود پہنے۔ اَور مَیں نے اِسرائیل کی سب آتشِین قُربانیاں تیرے باپ کے گھر کو دے دیں۔ 29 ۔پس تُم نے کیوں میرے ذَبیحوں اَور نَذَرانوں کو جِن کے مَسکِن میں گُزراننے کا مَیں نے حُکم دیا، لات ماری۔ اَور تُو نے اپنے بیٹوں کو مُجھ سے زیادہ عِزّت دی؟ تاکہ میری قوم کے سب بہترین ہدیوں سے تُم اپنے آپ کو موٹا کرو۔ 30 ۔ اِس لئے خُداوند اِسرائیل کا خُدا فرماتاہے۔ مَیں نے تو کہا تھا۔ کہ تیرا گھر اَور تیرے باپ کا گھر اَبد تک میرے حضُور میں چلے۔ لیکن اَب خُداوند فرماتاہے۔ یہ مُجھ سے دُور ہو۔ کیونکہ جو لوگ میری عِزّت کرتے ہیں۔ مَیں اُن کی عِزّت کرُوںگا۔ اَور جو میری تحِقیر کرتے ہیں وہ حقِیر کِئے جائیں گے۔ 31 ۔ دِیکھ وہ دِن آتے ہیں۔ کہ مَیں تیرا بازُو اَور تیرے باپ کے گھر کا بازُو کاٹ ڈالُوں گا۔ اَور تیرے گھر میں کِسی کی عُمر دراز نہ ہوگی۔ 32 ۔ اَور تُو مِسکیِن کی مصائب اُن تمام چیزوں میں دیکھے گا جو بنی اِسرائیل کے لئے مُسّرت کا باعث ہیں۔ اَور تیرے گھر میں کِسی کی عُمردَراز نہ ہوگی۔ 33 ۔ ماسوا اُس کے کہ مَیں اپنے مذَبح کے سامنے سے ایک آدمی کو تیرے لئے کاٹ نہیں ڈالُوںگا۔ تاکہ وہ تیری آنکھوں کے لئے دُھندلا پن اَور تیری جان کے لئے عذاب ہو۔ اَور ہر ایک جو تیرے گھر میں پیدا ہوگا جو ان ہی مَرجائے گا۔ 34 ۔ اَور تیرے لئے یہ نِشانی ہوگی۔ جو تیرے دونوں بیٹوں حفنی اَورفیخاس پر آئے گی۔ کہ ایک ہی دِن میں وہ دونوں مَرجائیں گے۔ 35 ۔ اَور مَیں اپنے لئے ایک وفادار کاہن برَپا کرُوں گا۔ جو میرے دِل اَور رُوح کے مُوافِق سب کُچھ کرے گا۔ اَور مَیں اُس کے لئے ایک پائیدار گھر بناؤں گا۔ تو وہ کُل ایّام میرے ممسُوح کے آگے چلے گا۔ 36 ۔ اَور ہر ایک جو تیرے گھر سے بچے گا۔ اُس کے پاس آئے گا۔ اَور چاندی کے ایک ٹُکڑے اَور روٹی کی ایک ٹکیا کے لئے اُسے سجدَہ کرے گا۔ اَور کہے گا۔ کہ مُجھے کہانت کی کِسی خدمت پر لگا لو۔ تاکہ مَیں روٹی کا ٹُکڑا کھاؤں۔